جنگلا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - لکڑی لوہے یا سیمنٹ وغیرہ کی سلاخوں کی بنی ہوئی جالی دار روک نیز ایسی چوکھٹ یا کھڑکی جس میں جالی لگی ہو۔ "جس کا جنگلا ممکن نہیں کہ حضرت عیسٰی کے ماقبل تیسری صدی کے وسط سے پہلے بنا ہو۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٧٠ ) ٢ - جالی دار باڑ، جالی، کٹہرا، احاطہ۔ "تینوں فاصل سلاخ دار جنگلے کی کھڑکیوں کے کھولنے سے ایک ہو جاتے تھے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٩:٣ ) ٣ - کیاریوں کی باڑ، پھولوں کی روش۔  بنا تھا درمیان باغ بنگلا کھلا گرد اس کے تھا پھولوں کا جنگلا      ( ١٨٦١ء، الف لیلہ نو منظوم، ٤١٩:٢ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'جنگالہ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'جنگلہ' مستعمل ہے۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٥ء میں افسوس کی "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لکڑی لوہے یا سیمنٹ وغیرہ کی سلاخوں کی بنی ہوئی جالی دار روک نیز ایسی چوکھٹ یا کھڑکی جس میں جالی لگی ہو۔ "جس کا جنگلا ممکن نہیں کہ حضرت عیسٰی کے ماقبل تیسری صدی کے وسط سے پہلے بنا ہو۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٧٠ ) ٢ - جالی دار باڑ، جالی، کٹہرا، احاطہ۔ "تینوں فاصل سلاخ دار جنگلے کی کھڑکیوں کے کھولنے سے ایک ہو جاتے تھے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ٩:٣ )

اصل لفظ: جنگالہ
جنس: مذکر